جاتے جاتے وہ رخ سے نقاب اٹھا کے چل دیا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaجاتے جاتے وہ رخ سے نقاب اٹھا کے چل دیا
خواہ مخواہ کیا بےقرار اور اکسا کے چل دیا
تم بجلی اور آگ کی بات کرتے ہو ہائے ہائے
وہ تو مجھے طور کا منظر دیکھا کے چل دیا
اس کی دید تھی آرزو شام سحر
آیا ظلم نشیمن جلا کے چل دیا
غم زندگی کی کہانی جب سنائی اس کو
وہ روکا چند لمحے اور سر ہلا کے چل دیا
بےرخی اس کی دیکھے میں کچھ بتا سکتا نہیں
راہوں میں پھر ملا وہ نظرے چرا کے چل دیا
کتنا بےرحم ہے وہ اس نے ظلم کی حد پار کر ڈالی
دل رکھا تھا روکنے کو کچلا اسے اور مسکرا کے چل دیا
تجھے کیا ہوا ہے ارشد تجھے کیا پراہ ہے کس کی
بجھا ہوا تھا وہ چراغ جو جلا کے چل دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






