جارہا ہے کوئی خفا ہو کر
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiہِجر میں تیرے مبتلا ہو کر
ہم تو مرجائیں گے جدا ہو کر
بس تعلق بھی اس نے یوں توڑا
جیسے پنچھی اڑا رہا ہو کر
اس نے محسوس بھی نہ ہونے دیا
"جارہا ہے کوئی خفا ہو کر "
ہم کو آیا نہیں منانے کوئی
ہم نے دیکھا ہے یہ خفا ہو کر
جس کی فطرت میں دشمنی ہوگی
دھوکہ دے گا وہ آشنا ہو کر
یہ جو جھک کر سلام کرتا ہے
سب سے ملتا ہے پارسا ہو کر
اس سے پوچھو ذرا وفا کیا ہے
گر پڑے گا یہ آئینہ ہو کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






