جازبیت، دلکشی اور بلا کا حُسن
Poet: Muhammad Imran Khan - emron mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarمخلصی، سادگی، سادہ دلی ہی تھی
کر نہ سکی سامنا ایسی بلا تھی وہ
جازبیت، دلکشی اور بلا کا حُسن
جادو حُسن و جمال کا چلا رہی تھی وہ
وہ جانتی تھی، کسقدر اُلجھے ہوئے ہیں ہم
سب جان بوجھ کر بھی اُلجھا رہی تھی وہ
آس کو، پیاس کو، ہوش و ہواس کو
ہلکا ہلکا پھونکتی، پھُسلا رہی تھی وہ
اک ضبظ کا دامن جو چُھوٹا نہیں ہم سے
ورنہ ہمارے صبر کو آزما رہی تھی وہ
وہ چاہتی تھی، سدا اُلجھے رہیں یونہی
نام پتہ کچھ نہیں بتلا رہی تھی وہ
بے نام محبت تھی، گُمنام ہو گئی
جو بھی تھی، دل کو میرے بہلا رہی تھی وہ
خیال جو آتااسکاکبھی مانو
جھنجھوڑتی تھی، سُخنور کو جگارہی تھی وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






