جام محبت
Poet: Ahsan Ali Tanha By: Ahsan Ali Tanha, gujratتو جام محبت پلا مجھ کو ساقی
خدا کے لیے تو بچا مجھ کو ساقی
کہیں میں تڑپ کر یہ جاں ہی نہ دے دوں
نہ ایسی بھی دے تو سزا مجھ کو ساقی
یہ جاموں کو بھر کے نہ غیروں کو دے تو
یہاں لا نہ ایسے ستا مجھ کو ساقی
میری بھی یہ ضد ہے نہ جاؤں گا خالی
تو چاہے تو کر دے فنا مجھ کو ساقی
میں اب تھک چکا ہوں یوں تنہا اکیلے
تو بانہوں کا دے آسرا مجھ کو ساقی
میں دن رات تیری نظر میں رہوں بس
تو آنکھوں میں ایسے سجا مجھ کو ساقی
میں ان سرد راتوں میں جاؤں کہاں اب
گلے سے لگا کر جلا مجھ کو ساقی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






