جاناں
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindiخود بھی دلگیر ہوئے ہم کو رُلایا جاناں
چھیڑ کے بات بھلا ہجر کی کیوں اَتنا سَتایا جاناں
ہم نے تو عمر بَتا دی اسی اَک آس پہ اپنی ساری
پھر بھی اک پل نہ ہمیں اپنا بنایا جاناں
لے کے نایاب سا تحفہ دلَ ناداں کا اپنے
ہم سا کوئی ایک سوالی تیری دہلیز پہ آیا جاناں
چُن کے پلکوں سے تیری راہ کے کانٹے سارے
خوں دل دے کے تیری راہ میں ہر پھول کھلایا جاناں
یوں تو کتنے ہی حسیں چہرے ہیں چا روں جانب
دل کو پر تیرے سوا کوئی نہ بھایا جاناں
تیری بستی میں کہیں طاہر غمگین رہا کرتا تھا
ہاں وُہ سادا سا پاگل سا کبھی یاد بھی آیا جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






