جانو
Poet: By: Saima Waheed, Sharjah-UAEخود کو تیرا اور تمہیں اپنا بنا لوں جانو
دل یہ چاہے میں تمہیں تم سے چرا لوں جانو
تم چھپ جاؤ مجھے دیکھ کے شرماتے ہوئے
میں خوشبو سے تمہاری تمہیں پا لوں جانو
پیار کی عمر ہے یہ پیار کا موسم اور ہم
بام و در کیوں نا گلابوں سے سجا لوں جانو
پیار سے تھام کے ہاتھوں میں تمہارا چہرہ
دیر تک دیکھوں نگاہوں میں رچا لوں جانو
کوئی بدلے میں تمہارے جو خدائی رکھ دے
میں تڑپ کر تمہیں سینے سے لگا لوں جانو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






