جانِ محسن
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامری دنیا میں پھر سے جاوداں ہونے لگا محسن
شعورِ بندگی بن کر رواں ہونے لگا محسن
خوشی سے جھومتی ہوں جب اسے محسوس کرتی ہوں
عجب حالت ہے اب میرا گماں ہونے لگا محسن
خیالِ فکر ہو یا ہو شعورِ زندگی میری
مری آنکھوں سے چہرے سے عیاں ہونے لگا محسن
وفا کے اس جزیرے پر میں کب سے تھی تنِ تنہا
سفینے کا مرے اب بادباں ہونے لگا محسن
کھلے ہیں پھول خوشیوں کے دلِ وشمہ کے آنگن میں
کہ خوشبو بن کے بانہوں میں عیاں ہونے لگا محسن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






