جان مانگو تو جان حاضر ھے
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas جان مانگو تو جان حاضر ھے
بطور ایصال و دان حاضر ھے
تم ٹھکانے کی بات کرتے ہو۔۔۔
دل کا پختہ مکان حاضر ھے۔۔۔
جب بھی چاھو بلا لو جس وقت۔۔۔
بندہ نا چیز نا ہندگان حاضر ھے۔۔۔
دل ٹوٹا ھے مگر ابھی بھی۔۔۔
دل تیرے لیے جان حاضر ھے۔۔
غیر سے کیا سروکار ہم کو؟؟؟
تمہاری خاطر دل قرباں حاضر ھے۔
کیوں کریں غم اسد بچھڑنے کا؟؟؟
جب ملنے کا قوی امکان حاضر ھے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






