جاگتے رہنا اور جگاۓ رکھنا
Poet: Asad Rehan ؔRahi By: asad rehan, Faisalabadجاگتے رہنا اور جگاۓ رکھنا
پر دل کو اپنے بچاۓ رکهنا
وہ کہتا ہے چھوڑ دوں گا تمہیں
یعنی موت کا سہرہ سجاۓ رکھنا
یہ عين ممكن ہے کہ وہ لوٹ آۓ
سو آخری سانس بچاۓ رکھنا
ہوں برا سب سے اس زمانے میں
ہوا حکم کہ گناه چھپاۓ رکهنا
ہیں منافق بهی آستین میں مگر
ہے اپنی فطرت دل کو لگاۓ رکهنا
اپنی ماں سے سیکھا ہے یہ طور
جو بھی ہو اولاد کو ہنساۓ رکهنا
ہم کو معلوم ہے انجام لیکن راہیؔ
اپنی عادت ہے نظریں ملاۓ رکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






