جاگی آنکھوں میں خواب رہنے دے
Poet: Noman Siddiqui By: Noman Siddiqui, Karachiجاگی آنکھوں میں خواب رہنے دے
اپنے رُخ پہ نقاب رہنے دے
تیری آنکھوں میں پڑھ لیا جاناں!
میرے خط کا جواب رہنے دے
بیٹھ جا آج رُو برو میرے
یہ سوال و جواب رہنے دے
سارے کانٹے نکال گلشن سے
اور سارے گلاب رہنے دے
نشہ ٹوٹا تو ساقی تو چھوٹا
پاس میرے شراب رہنے دے
تیرے ہونٹوں سے جل گیا ہے تن
میری جاں یہ عذاب رہنے دے
مجھ سے ملکر اداس تو ہو گا
مجھ سا خانہ خراب، رہنے دے
ہے غمِِ روزگار یہ نعمان
عاشقی کی کتاب رہنے دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






