جبکہ محبت ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمحبت نہیں ہے --- جبکہ محبت ہے
چاند راتوں میں دِل مچلتا ہے
سرد راتوں میں روح دہکتی ہے
کھلتی کلیوں کو دیکھنے کے بعد
مسکراہٹ لبوں پہ کِھلتی ہے
چونک جاتے ہیں ایک آہٹ پر
آئینہ دیکھ کے مسکاتے ہیں
پہروں کھوئے رہیں خیالوں میں
چاند تاروں سے بات کرتے ہیں
رات کٹتی ہے ساری آنکھوں میں
آنکھیں مخمور دن میں رہتی ہیں
ہوں اکیلے تو مسکراتے ہیں
لوگ کہتے ہیں یہ محبت ہے
پر ہمیں یہ گمان ہوتا ہے
کیوں ہمیں یہ گمان ہوتا ہے
محبت نہیں ہے --- جبکہ محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






