جب آنگن میں شام اترتی ھے
Poet: Nisar Zulfi By: Nisar Zulfi, Rawalpindiجب آنگن میں شام اترتی ھے، کچھ خوف ستانے لگتے ھیں
کچھ خواب جو کب کے ٹوٹ چکے، وہ یاد آنے لگتے ھیں
پھر شب کی کالی سیاھی میں، کچھ کالے سائے ابھرتے ھیں
تب سانس روکے، بنا آواز، شدت سے چلانے لگتے ھیں
کچھ روپ دھارے یاروں کے، کریدنے کو زخم لپکتے ھیں
جس ساز سے درد جاگ اٹھیں، وہ ساز بجانے لگتے ھیں
تلخ یادوں سے رشتہ توڑنا گو اتنا آسان تو نہیں ھے
پر کوشش جب بھی کی میں نے، وہ یاد دلانے لگتے ھیں
کس نے پکارا ھے چارہ سازوں کو، انھیں کہو لوٹ جائیں
میں جس کو بھولنا چاہتا ھوں، وہ اسی کو دھرانے لگتے ھیں
انھیں کہو نہ چھیڑیں مجھ سے، نہ پوچھیں میرے پیار ک قصہ
دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ کے، کئی درد جگانے لگتے ھیں
یہاں دو قدم چلنے کے بعد، پھر لوٹ جاتے ھیں لوگ زلفی
صرف یہی نہیں، وہ لوٹ کر بھی، کئی ظلم ڈھانے لگے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






