جب بھی چاہو غیر کو اپنا بنا لیتے ہیں آپ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجب بھی چاہو غیر کو اپنا بنا لیتے ہیں آپ
میرا چہرہ دیکھ کر کیوں سر جھکا لیتے ہیں آپ
میرے ہونٹوں پہ محبت کی کلی کھلتی ہے جب
گلشنِ ہستی میں آ کر مسکرا لیتے ہیں آپ
جانبِ مسجد جو بڑھتے ہیں قدم وقتِ سحر
ہر قدم پہ ہی فرشتوں کی دعا لیتے ہیں آپ
ہر طرف رنج و الم ہیں ،ہر قدم پہ درد و غم
زندگی کی سیج کو کیسے سجا لیتے ہیں آپ
دستِ شفقت ہے تو بدلے میں یہ دیکھو روز و شب
ہم غریبوں سے محبت کی دعا لیتے ہیں آپ
شدّتِ غم سے ہے جب پگھلا ہوا میرا وجود
پھر بھی میری سانس سے کیسے ہوا لیتے ہیں آپ
ایک ہی کشتی میں بیؔٹھے ہیں مگر وشمہ یہ کیا
آنکھ ملتی ہے تو چشمہ کیوں لگا لیتے ہیں آپ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






