جب تم روٹھ جاتے ہو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجب تم روٹھ جاتے ہو
مجھ سے دور ہو جاتے ہو
پھر میرے پاس کچھ نہیں بچتا
پھر میرا دل کہیں نہیں لگتا
پھر کوئی بھی بات
مجھے ہسا نہیں سکتی
اس ُجدائی سے بھڑ کر
کوئی بھی بات مجھے ُرلا نہیں سکتی
میں یادوں کی دنیا میں
کہیں کھوں جاتی ہوں
میں یہاں رہتی ضرور ہوں
لیکن تم میں گم ہو جاتی ہوں
پھر مجھے کوئی شخص
بھی اچھا نہیں لگتا
اپنی دعاوں میں
کوئی اثر نہیں لگتا
وصال کی لمحوں جیسا
دل میں کوئی شجر نہیں لگتا
کوئی ستارہ کوئی آفتاب
پھر دل میں روشنی نہیں کرتا
رات کے تنہا لمحوں میں
پھر کوئی ارمان دستک نہیں کرتا
جسم تو جیسے بےجان ہو جاتا ہے
پھر میرا وجود کوئی کام نہیں کرتا
میری سانسیس برف کی
طرح جم سی جاتی ہیں
میری دھڑکنوں میں
آگ سی لگ جاتی ہے
میری آنکھوں سے
آنسوؤں کی صورت
اک دھواں سا نکلتا ہے
پھر میرا ناداں دل محبت سے ڈرتا ہے
جب تم روٹھ جاتے ہو
مجھ سے دور ہو جاتے ہو
پھر میرے پاس کچھ نہیں بچتا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






