جب تک تری یاد سے میرا رشتہ رہے گا
Poet: Noor ul ain By: Noor ul ain, karachiجب تک تری یاد سے میرا رشتہ رہے گا
زمانہ مجھے نشائ سمجھتا رہے گا
تیرے چھوڑ جانے سے جو حالت ہے میری
ناجانے کب تک میرا حال ایسا رہے گا
وضاحت بھی تجھے دے چکی ھوں میں
یار کب تک تو مجھے غلط سمجھتا رہے گا
اتنی نفرت بھی اچھی نہیں ہوتی
کب تک ایسا چلتا رہے گا
روز مانگتی ھوں میں تجھے خدا سے
فرشتہ بھی ایک ہی دعا کب تک لکھتا رہے گا
بس کر اب لوٹ بھی آ تو
آخر کب تک یہ ناراضگی کا سلسلہ رہے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






