جب تک نہ ہو کچھ خاص چاہا نہیں کرتے
Poet: UA By: UA, Lahoreجب تک نہ ہو کچھ خاص چاہا نہیں کرتے
جب تک نہ بڑھے چاہ ہم چاہا نہیں کرتے
یوں تو بہت کچھ ہے جہاں میں لائق چاہت
لیکن ہر ایک کو ٹوٹ کے چاہا نہیں کرتے
جیسے تمہیں ٹوٹ کے چاہتے ہیں ہمنوا
ہم اپنے آپ کو بھی یوں چاہا نہیں کرتے
رخسار و خط و خال، سراپا و ادائیں
اوصاف ظاہری کو ہی چاہا نہیں کرتے
جب تک نہ ہوں جلوہ نما اوصاف باطنی
ہم چاند ستاروں کو بھی چاہا نہیں کرتے
چاہت کے بدلے چاہنا بھی ٹھیک ہے مگر
نہ مل سکے چاہت تو کیا چاہا نہیں کرتے۔؟
جس میں ہو شامل غرض وہ چاہت نہیں ہوتی
چاہیں انھیں جو آپ کو چاہا نہیں کرتے
بے لوث محبت کا تقاضہ تو یہ بھی ہے
جو تم کو چاہے بس اسے چاہا نہیں کرتے
عظمٰی ہماری فطرت ایسی عجیب ہے کہ
جو ہم کو چاہے ہم اسے چاہا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






