جب سر بلند اپنی قسمت کا تارا ہو گا
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaجب سر بلند اپنی قسمت کا تارا ہو گا
چاہت کریں گے ایسی ہر دل ہمارا ہو گا
بیٹھے بھی ہیں وہ دیکھو پہلو میں آن میرے
خاموش رہ کے اس دم کیسے گزارا ہو گا
ہونے لگی معطر بادِ صباء یقیناََ
بالوں کی الجھنوں کو اس نے سنوارا ہو گا
چھینکیں جو آ رہی ہیں اور وقت رات کا ہے
پھر سنگدل نے مجھ کو دل میں پکارا ہو گا
بادل کا رنگ بدلا اور بن گئیں گھٹائیں
آنکھوں کا سنگدل نے کاجل اتارا ہو گا
ہاں اس کی ہر صدا میں جو درد ہے بلآ کا
حالات کا نشانہ دردوں کا مارا ہو گا
اس ڈر سے جعفری میں الفاظ کم ہوں لکھتا
الفاظ کے ذریعے درد آشکارا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






