جب سے اِس دِل میں تری یاد بَسائی ہے صنم
Poet: صاحبزادہ محمد شاہ میر مغل By: Shahmeer Mughal, lahoreجب سے اِس دِل میں تری یاد بَسائی ہے صنم
اپنی ہستی تو اِس ہستی سے مِٹائی ہے صنم
عید اگر نام ہے دیدارِ رُخِ مَحبوب کا تو
میں نے کب آج تَلک عید منائی ہے صنم
میں تو مشہور ہی مجنوں ہوں مگر تو لیلہ ہے
یہ خبر کس نے زمانے میں اُڑائی ہے صنم
اہلِ دُنیا نے لگایا یہ تماشہ مگر افسوس
آج اس بزم میں تو بھی تماشائی ہے صنم
میری پرواز کے اَفلاک فقط تیرے قدم
تیرے قدموں ہی تلک میری رسائی ہے صنم
میں نے تو آنکھ سے دیکھا ہی نہیں چہرہ شاہؔ میر
بس فقط آنکھ تری رَہ میں بچھائی ہے صنم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






