جب سے تمہیں دیکھا نہیں
Poet: Badar Naseer By: Badar Naseer, lalamusaجب سے تمہیں دیکھا نہیں
تب سے گلشن مہکا نہیں
میری رونقوں کو کیوں نیلام کردیا
میرے مہکِ پھولوں کو کیوں بدنام کردیا
تیرے جانےسے پھولوں کی تبسم روٹ گئی
تیرے غمِ فراق سے کلیوں کی چشم پھوٹ گئی
مجھے ویراں دیکھ کر گل بانگ بھی اوٹ گئی
مجھے بیاباں دیکھ کر شمیم بھی روٹھ گئی
بہا ر کہتا ہے
تجھے ویراں کرنے کا میرا دوش نہیں
تجھے بیابا ں کرنے کا مجھے ہوش نہیں
تیرے دم سے ہی تو میری چان تھی
تیرے نام سے ہی تو میری پہچان تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






