جب سے تم کو چاہا ہے
Poet: Gurya By: Gurya, karachiجب سے تم کو چاہا ہے
دل کی دھڑکن یہی کہتی ہے
مانگا تھا جس کو دعاؤں میں
شاید تم وہی ہو
ہاں اب میں چپ نہی رہونگی
سب کچھ تم سے کہہ دونگی
میری نیندوں میں بسنے والے
وہ حسین خواب ہو تم
جسکی تعبیر اب تم سے جڑی ہے
دل میں بسنے والی سانسوں کی مالا ہو تم
میرا دل بھی اب تم ہو
میری جان بھی اب تم ہو
سنو میں جو کہتی ہوں
مجھ سے تم کبھی جدا نہ ہونا
ہمیشہ میں اور تم ساتھ رہیں
میری یہ دعا ہے رب سے
اگر مجھے موت آئے تو تیری بانہوں میں آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







