جب وہ دیکھتاہے تیرےحسن وجمال کہ نظارے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamجب وہ دیکھتا ہے تیرےحسن وجمال کہ نظارے
چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہےشرم کہ مارے
میری زندگی میں بہار آجائےنئےشگوفےکھلیں
ایک بار جو تم چلے آؤ میرے دل کہ دوارے
میں تجھےاپنےساتھ رکھوں گا صورت پیرہن
عمر بھر کے لیے جو تم ہو جاؤ ہمارے
ابتداءعشق میں جن کے قدم ڈگمگا جاہیں
ہم ایسے بزدل عاشق نہیں ہیں پیارے
یہ وادیاں یہ پھول یہ چاند یہ ستارے
مجھ سےپوچھتےرہتےہیں تیرے بارے
اصغرغریب کے وارے بھی ہو جایہں نیارے
گر محبت کی بھیک ڈال دو دامن میں ہمارے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






