جب کبھی اس سےمیری گفتگو نہیں ہوتی
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamجب کبھی اس سے میری گفتگو نہیں ہوتی
پھرکسی سےبات کرنےکی آرزونہیں ہوتی
یوں تو حسیں کئی اور بھی ہیں زمانےمیں
اس جیسی ہر دوشیزہ شعلہ رو نہیں ہوتی
رب کائنات کاایک انمول شاہکارنظرآتی ہے
ایسی تو کوئی حسیں و خوبرو نہیں ہوتی
میرےدرد دل کا اسی کو مداوا کرنا ہو گا
طبیبوں سے تو یہ بیماری رفونہیں ہوتی
جس میں پیار ومحبت کی مٹھاس نہ ہو
اس طرح کی زباں تو اردو نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







