جب کبھی پیار سے دیکھے وہ یہاں میری طرف
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامکمل کاوش!!!!!
جب مرا پیار محبت سے بلاتا ہم کو
مجھ کو لگتی ہیں سمندر کا کنارہ ہم کو
پھر وہی شام کے سائے ہیں ، وہی درد محل
پھر تری یاد سے سجتی ہیں ستارہ ہم کو
جب کبھی پیار سے دیکھے وہ یہاں میری طرف
پیش کرتی ہیں محبت کا نظارہ ہم کو
پڑھتے پڑھتے وہ کہیں دور نکل جاتی ہیں
تیری یادوں کا جو پڑھتی ہیں سپارہ ہم کو
آج ہوتی نہ کسی طور یہ رنگین غزل
آج کرتیں نہ اگر مجھ کو اشارہ ہم کو
اس سے پہلے کہ نہ چھن جائے یہ بینائی مری
آ کے آنکھوں میں مرے کھول دوبارہ ہم کو
کتنی الجھی ہے یہاں پیار کہانی اپنی
تیری حسرت کے درو بام سے نکلا ہم کو
اتنا جلتی ہوں کہ مٹ جاتی ہے میری ہستی
ہائے یہ شوق وفاؤں سے سکھاتا ہم کو
وشمہ لے ڈوبے نہ آنکھوں کا یہ بہتا دریا
تو سمندر کی طرف موڑ خدارا ہم کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






