جب گزرگاہ ِ محبت نہ کشادہ ہو گی
Poet: yawar azeem By: misbaah mushtaq, rawalpindiجب گزرگاہ ِ محبت نہ کشادہ ہو گی
جستجو منزل ِ جاناں کی زیادہ ہو گی
دل کے جذبوں پہ اندھیرے ہی مسلط ہوں گے
چاندنی جب نہ سر ِ بام ِ ارادہ ہو گی
رونق ِ محفل ِ بادہ ہے ہمارے دم سے
ہم نہ ہوں گے تو کہاں محفل ِ بادہ ہو گی
جب تلک ڈھانپ نہ لے چادر ِ افلاک مجھے
بے لباسی مرے پیکر کا لبادہ ہو گی
اب اگر لوٹ کے آئیں گے بچھڑنے والے
کوئی آغوش ِ محبت نہ کشادہ ہو گی
میری معصوم نظر ڈھونڈ رہی ہے اُس کو
کوئی لڑکی تو بھرے شہر میں سادہ ہو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







