جتنے اوصاف ہیں قلندر میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاموجِ نکہت نہیں ہے منظر میں
جتنے اوصاف ہیں قلندر میں
کیسے یہ زندگی گزاریں ہم
اب تو الجھن ہے جاناں گھر گھر میں
وہ تو رہتا ہے اور ہی در پر
جس کی یادیں ہیں میرے بستر میں
کوئی کیڑا نہ کھانے کو ترسے
رزق رکھا خدا نے پتھر میں
ان گلابوں کے بیچ رہتی ہیں"
کلیاں کس دور کے تصور میں"
اس کی تصویر جگمگاتی ہے
میری آنکھوں کے نیلے منظر میں
کچھ بھی لکھا نہیں ہے تختی پر
فصل گل کے یہاں مقدر میں
میری آنکھوں میں بس گیا تھا کوئی
میں بھی بیٹھی رہی سمندر میں
میں نے جانا تھا ملنے سجنا کو
اب وہ آتا نہیں ہے مندر میں
کچھ نہ وشمہ یہاں تلاش کرو
اس وفا کی زمین بنجر میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






