جدائی کے آنسو بھی دریا نما ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجفاوں نے کی انتہا بیٹھے بیٹھے
میں غم سے ہوئی آشنا بیٹھے بیٹھے
ہاں صبر و رضا ،عزم و ہمت کے بدلے
یہ دن ہو گئے ہیں سزا بیٹھے بیٹھے
اگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے
تو کیوں دے گیا ہے دغا بیٹھے بیٹھے
جگر تھامتی ہوں تو دل چیختا ہے
یہ کس درد کی دی دوا بیٹھے بیٹھے
جدائی کے آنسو بھی دریا نما ہیں
میں وحشت میں ہوں مبتلا بیٹھے بیٹھے
جو پیچھے سے رنج و الم بھیجتا ہے
کرے گا وہ کیا سامنا بیٹھے بیٹھے
محبت میں کس کو محبت ملی ہے
مگر ہاں ملی ہے جفا بیٹھے بیٹھے
مرے حال پر اب نظر ہی نہیں ہے
کہاں کھو گیا بے وفا بیٹھے بیٹھے
تُو دردِ جگر کو بھلا آج وشمہ
تُو آنکھوں میں ہی مسکرا بیٹھے بیٹھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






