جدا ہونے کے موسم میں جدا ہونا بھی پڑتا ہے
Poet: M Masood By: M Masood, Nottinghamجدا ہونے کے موسم میں جدا ہونا بھی پڑتا ہے
جسے مشکل سے پایا ہو اسے کھونا بھی پڑتا ہے
خود ہی پہ مان اتنا ہے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا
جسے کہہ دوں کہ میرا ہے اسے ہونا بھی پڑتا ہے
ابھی تو فصلِ گُل ہو مسلِ گُل ہو ذہین میں رکھنا
کہ جب وقتِ خزاں آۓ تو پھر رونا بھی پڑتا ہے
مجھے نیند نہیں آتی اس کی یاد آنے کے بعد
مگراک خواب کے لالچ میں پھر سونا بھی پڑتا ہے
ہمیشہ ہنستا رہتا ہوں چھپا کے غم زمانے کے
مگر جب اس کا نام آئے تو پھر رونا بھی پڑتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






