جس رت میں ہم ملے تھے اب پھر وہی سماں ہے
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanجس رت میں ہم ملے تھے اب پھر وہی سماں ہے
صدیاں گزر گئی ہیں اب لوٹ آ جہاں ہے
آ دیکھ اب تو جاناں میرے دل کی بیقراری
یہ مجھ سے پوچھتا ہے تیرا جان جاں کہاں ہے
آنکھیں ترس رہی ہیں تیری دید کو اے ہمدم
اک جھلک ہی دکھانے اب آ بھی جا جہاں ہے
نہ ہے قرار دل کو نہ جینے کا مزہ ہے
بن تیرے اے ستمگر یہ زندگی خزاں ہے
تجھ سےبچھڑ کے زریں خود سے بھی بےخبر ہے
ہر اک سے پوچھتا ہے منزل میری کہاں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






