جس محترمہ نے کرایا ہے میرے خلاف پرچہ
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMجس محترمہ نےکرایا ہےمیرےخلاف پرچہ
ایک دن ڈھونڈھ ہی لوں گا اس کہ گھرکاپتہ
چلوکسی بہانے اس بیچاری کوخوشی ملی
ہم کس سےجا کرمانگیں جوہمارا ہوا خرچہ
ہمارےپیار کی خبرپولیس تک پہنچ چکی ہے
اس کی ماں کہ پاس جاؤں گا لیکراپنا رشتہ
مجھ جیسے دیوانےکاپیار ٹھکرا کرمحترمہ
اپنےاس پردیسی کو کر نہ دینا دل شکستہ
یہاں جس سےبھی میرےبارےپوچھو گی
وہ کہےگا اصغرکانہ پوچھووہ ہےنرافرشتہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






