جس نے آداب مجھ سے سیکھے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاحُسنِ خوشبو کا ہے زیاں توبہ
ورطہ حیرت میں ہے جہاں توبہ
جس نے آداب مجھ سے سیکھے ہیں
لے رہا ہے وہ امتحاں توبہ
میرے اندر ہی پل رہا تھا کہیں
جس کو ڈھونڈا جہاں جہاں توبہ
شور سینے سے اٹھ رہا ہے مگر
ہے ہواؤں میں بادباں توبہ
کیا بہاروں میں روٹھ کر وہ گیا
سارے گلشن میں ہے خزاں توبہ
اس کو چھونے کی آس دل میں رہی
کتنا اونچا ہے آسماں توبہ
آج تارے خفا ہیں قسمت کے
وشمہ آنکھوں میں ہے دھواں توبہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






