جس نے صدائیں بانٹی در و دیوار سائل کی طرح
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجس نے صدائیں بانٹی در و دیوار سائل کی طرح
میں نے آج بھی اُسے دیکھا ایک گھایل کی طرح
جب کبھی بے جا خیال سے فرقت چاہی تھی
وہ پھر لپٹ گیا دامن پہ آنچل کی طرح
یہ امید نہیں کہ مدت لوٹے گی پھر بھی
بج اٹھتی ہیں دھڑکنیں یوں پایل کی طرح
مجھے کس نے سنا اور یوں کس نے راہ موڑی
زمانے کی زبانیں چلتی رہی قایل کی طرح
بارشوں میں بھی بدن ٹوٹ کر بکھرتے ہیں
نہ سمجھو عشق کو بس تساہل کی طرح
لہروں میں لہراتے اور اپنا دل بہلاتے
کوئی تو بحر ڈھونڈتا تھا ساحل کی طرح
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






