جس پہ شب کا ہر پہر انتظار گذرے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجس پہ شب کا ہر پہر انتظار گذرے
اس کا تو ہر لمحہ بس ناگوار گذرے
یہاں انجانے میں کئی زخم مل جاتے ہیں
چاہتے یہ بھی ہیں کہ وقت استوار گذرے
اپنے منتظر دیئے کو باد سے چھپا رکھا ہے
بھل کوئی ہوا کا جھونکا اپنی رفتار گذرے
عزت نفس کو پھر کہاں ڈھونڈیں گے
ڈر ہے کہیں احساس ذات نہ خوار گذرے
میری بے قصوری نے جو جو ہرجانے دیئے
خدا کرے تجھ سے ایسا نہ کوئی اضرار گذرے
اب تک جو بھی احسان، چکا دیئے جاتا ہوں
کہ پھر نہ زندگی سنتوش تیری زیربار گذرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






