جس کا میرے دل میں بسیرا تھا
Poet: A.A.Asghar By: A.A.Asghar, LONDONوہی تنہا چھوڑ گیا جس کا میرے دل میں بسیرا تھا
ہم جسے اپنا سمجھ بیٹھے وہ تو کوئی لٹیرا تھا
وہ مجھ سے بچھڑ گیا دنیا کی بھیڑ میں
جس کا دعوی تھا کہ وہ صرف میرا تھا
نہ جانے وہ آج تک لوٹ کر کیوں نہیں آیا
ایسا لگتا ہے کہ اس کا جوگی والا پھیرا تھا
وہ سدا خوش رہے جس نے مجھے ضیا بخشی
ورنہ میری زیست میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا
وہ اڑ گیا ہوا میں کسی خوشبو کی طرح
اے دل جس پہ تجھے ناز تھا کہ وہ تیرا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






