جس کسی کو فون کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghahamجس کسی کو فون کرتا ہوں اٹھاتا نہیں کوئی
اب پیار سے مجھے گلے لگاتا نہیں کوئی
جھوٹی تعریفوں سے آسماں پہ چڑھاتے تھے لوگ
ان دنوں مجھے سر پہ بھی چڑھاتا نہیں کوئی
میری شاعری سن کر جو بڑے مسکے لگاتے تھے
اب تو منہ زبانی مکھن بھی لگاتا نہیں کوئی
میری راہ میں اپنی پلکیں بچھاتے تھے لوگ
آج تو سوکھے پھول بھی بچھاتا نہیں کوئی
میرے سینے میں تو سبھی کے لیے محپت بھری ہے
میری جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا نہیں کوئی
پہلے پہل طرح طرح کے کھانے کھلاتے تھے لوگ
آج کل تو زبانی پلاؤ کھلاتا نہیں کوئی
اصغر جیسے بے روزگار سے پیار کر کے
ایسا بھلا کام کر کے ثواب کماتا نہیں کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






