جلا کر رات بھر
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadجلا کر رات بھر مجھ کو خود تو سو گیا ہو گا
بڑا نادان ہے وہ پروانہ کہیں کھو گیا ہو گا
جلی میں تو رات ساری نام لے کر اسی کا پر
جہاں ٹھہرا تھا وہ شاید وہاں کا ہوگیا ہو گا
یہاں جلتی رہی میں اسکی قسمت تو زرا دیکھو
اسے آنا تھا جلنے کو جلانے کو گیا ہوگا
اسی کو پانے کی دل میں جو ہر پل بےقراری ہے
بیج محبت کے دل میں وہ لازم بو گیا ہو گا
نہیں آیا جو اب تک بھی میری فریاد پہ ساجد
بجھا کر میری محبت دل سے وہ تو گیا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






