جنوری اب تو ہم کو بھاتا نہیں ہے
Poet: Tanzila Yousaf By: Tanzila Yousaf, Lahoreجنوری اب تو ہم کو بھاتا نہیں ہے
خوشی کی نوید لاتا نہیں ہے
الہی زیست کا کوئی سامان کر
یہ جیون گزارہ جاتا نہیں ہے
میں شکستہ پا اور زخم زخم ہوں
کوئےمنزل کوئی ہمت دلاتا نہیں ہے
میرے شانوں پہ پیاروں کا دکھ بڑھتا جارہا ہے
یہ بوجھ اب اٹھایا جاتا نہیں ہے
میں ریزہ ریزہ بکھرتی جارہی ہوں
یہ ٹوٹتاوجودجوڑنےکوئی آتا نہیں ہے
زمیں مجھ پہ تنگ ہوتی جارہی ہے
یہ دکھ کم ہونے آتا نہیں ہے
میرے مولا ہنستی سی نئی دنیا دے دو
زمیں پہ دکھ کا موسم ڈھلنے پاتانہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






