جن کی چاہت کی آرزو کی تھی
Poet: UA By: UA, Lahoreجن کی چاہت کی آرزو کی تھی
جن کو پانے کی جستجو کی تھی
جن کو چاہا کِئے وفاؤں میں
جن کو مانگا کئے دعاؤں میں
انہی سے دور ہو گئے کیونکر
بھلا مجبور ہو گئے کیونکر
اپنی قسمت میں تنہائی لکھی تھی
مقدر میں ہی جدائی لکھی تھی
درد بڑھتا ہی گیا جسقدر دوا کی
دور ہوتے گئے ہم جسقدر دعا کی تھی
کوئی نہ کوئی تو حکمت ہوگی
اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگیا
اپنی قسمت سے بھلا کیا لڑنا
اور مقدر سے گِلہ کیا کرنا
درد سہنا ہے اور جِینا ہے
ہنس کے یہ زہر ہمیں پِینا ہے
بھول جائیں گے جستجوکی تھی
تمہیں پانے کی آرزو کی تھی
کوئی پوچھے بھی تو ہے چپ رہنا
عرضِ حال ان سے بھی نہیں کہنا
جن کی چاہت کی آرزو کی تھی
جن کو پانے کی جستجو کی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






