جن کے لیے جاگے ہم ساری رات
Poet: Maqsood Nazir OMI By: Maqsood Nazir OMI, Quettaجن کے لیے جاگے ہم ساری رات
وہ سوئے رہے ہماری آغوش میں
وہ جن کے لیے قلم کروا دیا سر اپنا
وہ بنتے رہے گے سو ہماری ہوش میں
خون دے کر روشن کیے تھے چراغ
وہ کرتے رہے گُل ان کو اپنے جوش میں
ہم تڑتے رہے کانٹوں کی نوک پر
وہ رہے مد ہوش خوابَ خرگوش میں
ان کی یہ ادا بھی ہمیں بہت پسند آئی
ہم چل بسے وہ رہے ڈھونتے ہواؤں کے دوش میں
مقصود عشق کی یہی معراج ہوتی ہے
عاشق اجڑ جائے مشعوق پھرے اپنے شور میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






