جوان تم نہ رہے مجھ پہ بھی شباب کہاں (دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوان تم نہ رہے ، میں بھی اب جوان کہاں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
اداس شام کی طرح مری جوانی تھی
تمھارے بن میرے جیون میں بس ویرانی تھی
لیا ہے کیسا مقدر نے پیار کا امتحاں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
وہ سردیوں کی دوپہروں میں چھت پہ آ جانا
وہ میرا دیکھنا اور پھر تمھارا شرمانا
کبھی جدائی بھی ہو گی ہمیں نہیں تھا گماں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوان تم نہ رہے مجھ پہ بھی شباب کہاں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
بتاؤں کیسے جدائی میں کیا گزرتی تھی
تمھارا شام و سحر انتظار کرتی تھی
تڑپ کے میں نے گزاری ہے ایک عمر یہاں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
سنائی دیتی ہیں اب بھی وہ پیار کی باتیں
ہیں یاد اج بھی مجھ کو حسیں ملاقاتیں
تھے چاہتوں کے ہمارے دلوں میں کیا ارماں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔
جوان تم نہ رہے میں بھی اب جوان کہاں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوان تم نہ رہے مجھ پہ بھی شباب کہاں
تمھارا پیار مگر دل میں آج بھی ہے جواں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






