جو ایک لمحہ وصال تھا وہ ایک آن گز ر گیا
Poet: Mukhlis Bukhari By: مخلص بخاری, taunsaجو ایک لمحہ وصال تھا وہ ایک آن گز ر گیا
ہجر کی اس دشت میں مجھے چھوڑ کر ہمسفر گیا
تیرے وصال کے نور سے چھٹ جائیں ہجر کی ظلمتیں
توآ سہی مگر ایک بار اے جان من تو کدھر گیا
جہاں بھی تیری نظر پڑی وہاں طور تو نے بنا دیا
تیرے حسن چارہ گری سے میں ذرا ٹوٹتے ھی بکھر گیا
تو نے کیا ھے مبتلا مجھے ہر طرح کے عذاب میں
فکروغم کا جو پھول تھا غم عاشقی میں نکھر گیا
کہتے ھیں وادی عشق میں نہیں رہتا تن بہ سر یہاں
میرا سر جو تن سے جدا ھوا تو اور بھی میں سنور گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






