جو دل کے قریب تھا وہ کیسے بدل گیا
Poet: Asad By: Asad, mpkتنہا چھوڑ کر ہمیں وہ تنہا نکل گیا
کتنا ساتھ تھا وہ اپنے پتہ آج چل گیا
ہم اچمبے میں پڑ گئے اسکو دیکھ کر
جو دل کے قریب تھا وہ کیسے بدل گیا
دل اس کی یاد کو بھلا نہ سکا برسوں
رات گئے چونکا کبھی کبھی اچھل گیا
مے پی لڑ کھڑانا سیکھا نہیں ہم نے
یہ تیرا خیال تھا جو گرتے سنبھل گیا
عشق و جنون وحشت کہیئے یا پھر دیوانگی
اسد مر مٹا اس پر کیون زمانہ جل گیا؟؟؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






