جو دِل کا خون کیا تب سحر کا نام لیا
Poet: Professor Riffat Mazhar By: Professor Riffat Mazhar, Karachiلُٹیں جو حسرتیں تو دِل کو ہم نے تھام لیا
ملا قرار ہمیں جب تمہارا نام لیا
نہ ہم سمیٹ سکے اپنے آپ کو لیکن
یہ کیا کہ دُور سے گرتے ہوو ¿ں کو تھام لیا
تمام شہر میں بکھرے ہوئے ہیں پروانے
یہ کس شمع نے ہے لُٹنے کا انتقام لیا
فریبِ عشق دیا حسن کی وساطت سے
یہ کچھ عجیب سا یزداں نے ہم سے کام لیا
نہ سُکھ کی روشنی برسی نہ دُکھ کے ابر گھِرے
بس ایک برق سی لپکی جو تیرا نام لیا
تمہیں بتائیں تو کیا رات کے مسافر نے
جو دِل کا خون کیا تب سحر کا نام لیا
تمہاری کھوکھلی خوشیوں سے لاکھ بہتر ہے
کہ ہم نے آہ بھری ا ور دِ ل کو تھام لیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






