جو ذرا سے بات کو سبب بنادیتے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجو ذرا سے بات کو سبب بنا دیتے ہیں
وہ لوگ اپنی دنیا الگ بنا دیتے ہیں
کچھ درپن میں آجائے خیال رکھ کر
پورا جیون بے لطف بنا دیتے ہیں
دنیا جلوا گری میں دلپذیر ہوکر بھی
یوں عبث زندگی غضب بنا دیتے ہیں
ہر راہ کا گذر ہے کانٹوں سے تو یہ
کیسی منزل کا حدف بنا دیتے ہیں
کب بھرتے ہیں درز پرانے کہ
وہ آہوں کا اتنا عجب بنا دیتے ہیں
گلناز نظارے اب یہاں آکر برسوں
ہم دل سے دل ملا کر جنت بنا دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






