جو رشتہ دل سے نہ جڑا ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, PAKISTANجو رشتہ دل سے نہ جڑا ہو
میں بندھن توڑتی کیوں نہیں دیتی
مجھے رشتوں کا کیوں خوف ہے
یا خود سے لڑنے سے ڈرتی ہوں
نہ بدلنے کا میری تقدیر میں ہے
میں خود سمٹ گئ اپنے میں
کیا تمیں معلوم میری زندگی کیا ہے
میں کسی کے نام سے ڈرتی ہوں
رشتوں سے ٹکرا نہیں سکتی میں
میں تو زمانے سے ڈرتی ہوں
میرا دل ہمت تو رکھتا ہے مگر
میں اپنے آپ کو آزمانے سے ڈرتی ہوں
اقرار الفت کی قسم میں تو انکار سے ڈرتی ہوں
تم اتنا اعتبار کرؤ میں تم سے محبت کرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






