جو رنگینی ہے اس جہاں کی
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGجو رنگینی ہے اس جہاں کی یہ تو ان کا شباب ہوگا
یہ ترنم جو پھوٹتے ہیں یہ بھی ان کا خطاب ہوگا
ستارہ آنکھیں جو ہوں گی اُن کی اور چہرہ کتاب ہوگا
جو ہوگئے ہیں ان پہ قرباں کہاں دلوں کا حساب ہوگا
مجھ سے ان کو جو ہوگی نفرت اور یونہی انکا حجاب ہوگا
حسرت و ارماں کے سوا پھر کون میرا ہم رکاب ہوگا
یوں ہی سدا جو ان کی ان مسکراہٹوں کا سراب ہوگا
میری جوانی کا تو عمر بھر یوں ہی خانہ خراب ہوگا
جو ہوگا ان سے وصل کا دن وہ تو یوم حساب ہوگا
دل میرا قیصر فراق میں جل جل کے تب تک کباب ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







