جو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤں
Poet: ریاض مجید By: Ghani, Gilgitجو سوچتا ہوں اگر وہ ہوا سے کہہ جاؤں
ہوا کی لوح پہ محفوظ ہو کے رہ جاؤں
یہ کیا یقین کہ تو مل ہی جائے گا مجھ کو
تری جدائی کا جاں لیوا دک تو سہہ جاؤں
خود اپنے آپ کو دیکھوں ورق ورق کر کے
کسی کے سامنے جاؤں تو تہہ بہ تہہ جاؤں
کھڑا ہوں صورت دیوار ریگ ساحل پر
ذرا سی موج بھی آئے تو گھل کے بہہ جاؤں
مرے خدا مجھے اظہار کی وہ قدرت دے
مجھے جو کہنا ہے اک لفظ میں ہی کہہ جاؤں
حریف کوشش پرواز ہے یہ موسم برف
میں آشیاں میں ہی پر کھول کھول رہ جاؤں
چٹان بن کے بھی کب تک بچا رہوں گا ریاضؔ
مثال خس ابھی سیل زماں میں بہہ جاؤں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






