جو پاگل مجھے کر دے
Poet: Ahsan Ali Tanha By: Ahsan Ali Tanha, greeceحسیں اک صنم ہو تو پھر زندگی ہو
اسی کے حوالے میری ہر خوشی ہو
میں اس کو نکھاروں اسی کو سنواروں
جو دل میں میرے پھول بن کے کھلی ہو
میں در در ہی بھٹکوں نہ سنبھلوں کبھی
کہ جب بھی کبھی وہ نہاں روشنی ہو
اسے بھولنے کا تصور بھی کیسے
لہو بن کے جو جسم میں دوڑتی ہو
مجھے ہوش کی اب ضرورت نہیں ہے
جو پاگل مجھے کر دے وہ دل لگی ہو
یہ لمحے بھی ایسے ہوں تنہا کے جن میں
محبت محبت محبت بھری ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






