جو پنہاں ہے دل میں سنا کر تو دیکھو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجو پنہاں ہے دل میں سنا کر تو دیکھو
اک اندھی صدا ہی لگا کر تو دیکھو
ہیں خاموش ہونٹوں پہ خاموش نغمے
ان آنکھوں سے کچھ گنگنا کر تو دیکھو
شبِ ہجر کے غم ہی دل کے مکیں ہیں
انہیں آج اپنا بنا کر تو دیکھو
جو غیروں نے چھوڑا ہے رستے میں اب تو
مرے دل میں بھی گھر بنا کر تو دیکھو
اگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے
قدم سے قدم پھر ملا کر تو دیکھو
وراثت میں دردِ جگر ہی ملا ہے
یہ دل کیا بلا ہے جلا کر تو دیکھو
میں مرقوم ہوں وشمہ تیری جبیں پر
ہے ہمت تو مجھ کو مٹا کر تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






