جو چلا جائے جو آتا نہیں پیارے واپس
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), HOUSTON USAجو چلا جائے جو آتا نہیں پیارے واپس
اند کو دیکھ کے آئے ہیں ستارے واپس
کردیئے ہم نے سمندر کو کنارے واپس
ہم بھی سر پہ نہیں رکھتے ہیں کسی کا احساں
سُود کے ساتھ یہ لو قرضے تمہارے واپس
نم نگر رہنے کو آئی ہے جو وہ ذات لطیف
محفلیں پھر سے سجانے لگے تارے واپس
کوئی تو بات ہے پوشیدہ وہاں پر کہ جہاں
جو چلا جائے جو آتا نہیں پیارے واپس
رب نےانسان کو جو تخت خلافت بخشا
خبط ابلیس کو ہے تب سے اتارے واپس
انکے عارض کا بھی دیدار ضروری ہے مگر
زلف جو بگڑے تو پھر کون سنوارے واپس
میری بے تابیء دل کو ہی فقط دوش نہ دو
چشمِ جاناں بھی تو کرتی تھی اشارے واپس
سر چڑھا جن کے مئے نخوت و غفلت کا نشہ
وقت نے ایسے بہت لوگ سدھارے واپس
جس پہ اسوار جنوں ہوتا تھا پڑھنے کا کبھی
منہ پہ وہ مار گیا آج شمارے واپس
لب پہ اک حرف شکایت بھی جو آئے کہنا
جب بھی آؤ گے مری راہ میں پیارے واپس
مفتی ہاتھوں سے لکھے نامے جو مانگے اس نے
زیست کے ہم نے کئے سارے سہارے واپس
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






