جھمکے لا دو
Poet: حیاء غزل By: Haya Ghazal, Karachiحسن سجتا ہی ہے سنگھار سے جھمکے لادو
مانگا ہے آج کچھ دلدار سے جھمکے لادو
سونے چاندی کے ہوں نہ ہوں بھلے پیتل کے
پاس کے ہی نئے بازار سے جھمکے لا دو
چھونا ہر بار ہی کانوںکو بڑے اندازکےساتھ
کہنا پھر اسکا وہی قرار سے جھمکے لا دو
موہ لیا کرتا ہے بے ساختہ میرا دل یو نہی
باز آنا نہیں کبھی تکرار سے جھمکے لادو
دیکھو دیکھیں گےنہیں جبتک نظربھر کے
بچنا چاہتے ہو تو انکار سے جھمکے لادو
سنجو کے نازک سی تیری یہ نشانی دل سے
پاس رکھیں گے بڑے پیار سے جھمکے لادو
آنسو بہنے کو ہیں چھوڑ دو اب ضد اپنی
مار ڈالیں گے اس ہتھیار سے جھمکے لادو
جانے دیں گےنہیں کہیں بھی وعدہ کے بناء
شرط ہے ایک ہی فرار سے جھمکے لادو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






